Wednesday, April 17, 2019

nahjul balagha Hikmat 457

بسم اللہ الرحمن الرحیم


وَ قَالَ علی علیه السلام
مَنْهُومَانِ لَا یَشْبَعَانِ طَالِبُ عِلْمٍ وَ طَالِبُ دُنْیَا
457دو ایسے خواہشمند ہیں جو سیر نہیں ہوتے طالب علم اور طلبگار دنیا۔

نہج البلاغہ حکمت نمبر ۴۵۷
दो चाहने वाले कभी संतुष्ट नहीं होते। एक ज्ञान चाहने वाला, एक दुनिया चाहने वाला।

https://www.youtube.com/watch?v=spjRdOGNgBY

امن و امان کا سبب/ amn o aman ka sabab


بسم الله الرحمن الرحیم
Salamun alaikum w.r.w.b
قال الامام المهدی علیه السلام : اِنّي اَمانٌ لِأَهلِ اِلأرضِ كما أَنَّ النُّجومَ اَمانٌ لِأَهلِ السّماء.
بحارالانوار، ج۷۸، ص ۳۸
امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف فرماتے ہیں : میں زمین والوں کےلئے ویسے ہی امن و امان کا سبب ہوں جیسے ستارے آسمان والوں کے لئے امن و امان کا سبب ہیں ۔


بحارالانوار، ج۷۸، ص ۳۸
इमाम महदी (अ स ) ने फ़रमाया : मै ज़मीन वालों के लिए वैसे ही अम्न व् अमान का सबब हूँ जैसे सितारे आसमान वालों के लिए अम्न व् अमान का सबब हैं ।
बेहारुल अनवार, जिल्द ७८, पृष्ट ३८
Mai zameen walon ke liye waise hi amn o amaan ka sabab hun jaise sitare aasmaan walon ke liye amn o amaan ka sabab haiN .
Beharul anwar, jild78, pg 38
Iltemase dua

انتظار/ intezaar


بسم الله الرحمن الرحیم
Salamun alaikum w.r.w.b
قال امیرالمومنین علیہ السلام : اِنتَظِروا الفَرَجَ وَلا تَيأسُوا مِن رَوحِ الله
بحارالانوار، ج۱۵، ص۱۲۳
امام کے ظہور اور فرج کا انتظار کرو اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ۔
بحارالانوار، ج۱۵، ص۱۲۳
HAZRAT ALI (a.s) ne farmaya : IMAM  ke zuhoor aur faraj ka intezar karo aur allah ki rahmat se mayoos na ho .
Behaarul anwaar, jild 15, page 123
हज़रत अली (अ।स) ने फ़रमाया :इमाम  के ज़ुहूर और फरज का इंतज़ार करो और अल्लाह की रहमत से मायूस ना हो।
बेहारुल अनवार, जिल्द १५, पृष्ट १२३
iltemase dua

Monday, March 25, 2013

صلوات بر فاطمہ علیھا السلام


۱۳ جمادی الاولیٰ روز شہادت صدیقہ طاہرہ بر موالیان آنحضرت تسلیت باد

صلوات بر فاطمہ علیھا السلام


اللهم صل على محمد وأهل بيته، وصل على البتول الطاهرة الصديقة المعصومة، التقية النقية الرضية الزكية الرشيدة، المظلومة المقهورة، المغصوبة حقها، الممنوعة إرثها، المكسورة ضلعها، المظلوم بعلها، المقتول ولدها، فاطمة بنت رسولك، وبضعة لحمه، وصميم قلبه، وفلذة كبده، والنخبة منك له، والتحفة خصصت بها وصيه، وحبيبه المصطفى، وقرينه المرتضى، وسيدة النساء، ومبشرة الأولياء، حليفة الورع والزهد، وتفاحة الفردوس والخلد، التي شرفت مولدها بنساء الجنة، وسللت منها أنوار الأئمة، وأرخيت دونها حجاب النبوة. اللهم صل عليها صلاة تزيد في محلها عندك، وشرفها لديك، ومنزلتها من رضاك، وبلغها منا تحية وسلاماً، وآتنا من لدنك في حبها فضلاً وإحساناً ورحمة وغفراناً، إنك ذو العفو الكريم.
سوال : جب پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ نے فدک جناب فاطمہ (س) کو ہبہ کر دیا تھا تو پھر بی بی نے خطبہ فدک میں میراث اور حق وراثت کا ذکر کیوں کیا ؟
جواب : جس وقت جناب فاطمہ (س) کو پتہ چلا کہ ابوبکر نے فدک پر قبضہ کر لیا اور فدک میں کام کرنے والے افراد کو وہاں سے نکال دیا تو بی بی نے ابوبکر سے جاکر اپنے حق کا مطالبہ کیا تو اس نے ہبہ کا انکار کر کے کہا کہ اگر تمہارے پاس ہبہ کے لئے کوئی گواہ ہے تو لاؤ ، بی بی نے گواہ کے طور پر مولائے کائنات علیہ السلام ، امام حسن علیہ السلام و امام حسین علیہ السلام اور جناب ام ایمن(رض) کو پیش کیا تو غاصب کی نیت و پہلے ہی سے خراب تھی اسے فدک واپس کرنا منظور تھا ہی نہیں اس لئے جواب دیا کہ علی کو فدک سے فائدہ ملتا ہے اس لئے ان کی گواہی قبول نہیں ہے ، حسنین نا بالغ ہیں اور ام ایمن فصیح عربی میں گواہی نہیں دے سکتیں اس لئے ان کی گواہی بھی قابل قبول نہیں ہے ،
البتہ بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ ابو بکر نے ان حضرات کی گواہی مان کر ایک نوشتہ بھی لکھ دیا لیکن عمر نے وہ نوشتہ چھین کر پھاڑ دیا یا جلا دیا ۔
بہر حال جب بی بی اس جانب سے مایوس ہو گئیں تو آپ نے میراث کا دعویٰ پیش کیا لیکن بہر حال ابوبکر کی نیت خراب تھی اس لئے جناب زہرا(س) کے تمام تر احتجاج و استدلال کو یہ کہہ کر رد کر دیا کہ نبی نے فرمایا ہے کہ ہم انبیاء کسی کو اپنا وارث نہیں بناتے ہیں ۔
حکومت کا دونوں موقف خلاف شرع ہے چونکہ فدک فاطمہ کے ہاتھوں میں تھا اس لئے ان سے گواہ طلب کرنا حکم شریعت کے خلاف ہے اور دوسرا موقف یعنی نبی کی حدیث تو چونکہ یہ حدیث خبر واحد ہے اور صرف ابو بکر نے نقل کیا ہے اس لئے قرآنی آیات کے مقابلہ میں اس حدیث کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔

Friday, February 19, 2010